میں بوندا باندی کے درمیان اپنے گھر کی چھت پر کھڑا رہا ہوں

جمال احسانی

میں بوندا باندی کے درمیان اپنے گھر کی چھت پر کھڑا رہا ہوں

جمال احسانی

MORE BY جمال احسانی

    میں بوندا باندی کے درمیان اپنے گھر کی چھت پر کھڑا رہا ہوں

    چراغ تھا کوئی جس کے ہمراہ رات بھر بھیگتا رہا ہوں

    یہ اب کھلا ہے کہ ان میں میرے نصیب کی دوریاں چھپی تھیں

    میں اس کے ہاتھوں کی جن لکیروں کو مدتوں چومتا رہا ہوں

    میں سن چکا ہوں ہواؤں اور بادلوں میں جو مشورے ہوئے ہیں

    جو بارشیں اب کے ہونے والی ہیں ان کے قصے سنا رہا ہوں

    اس ایک ویران پیڑ پر اب کئی پرندوں کے گھونسلے ہیں

    جو پچھلے موسم میں لکھ گیا تھا وہ نام میں ڈھونڈتا رہا ہوں

    سفر کی لذت سے بڑھ کے منزل کا قرب تو معتبر نہیں ہے

    وہ مل گیا اور میں ابھی تک گلی گلی خاک اڑا رہا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites