میں دسترس سے تمہاری نکل بھی سکتا ہوں

عزیز نبیل

میں دسترس سے تمہاری نکل بھی سکتا ہوں

عزیز نبیل

MORE BYعزیز نبیل

    میں دسترس سے تمہاری نکل بھی سکتا ہوں

    یہ سوچ لو کہ میں رستہ بدل بھی سکتا ہوں

    تمہارے بعد یہ جانا کہ میں جو پتھر تھا

    تمہارے بعد کسی دم پگھل بھی سکتا ہوں

    قلم ہے ہاتھ میں کردار بھی مرے بس میں

    اگر میں چاہوں کہانی بدل بھی سکتا ہوں

    مری سرشت میں ویسے تو خشک دریا ہے

    اگر پکار لے صحرا ابل بھی سکتا ہوں

    اسے کہو کہ گریزاں نہ یوں رہے مجھ سے

    میں احتیاط کی بارش میں جل بھی سکتا ہوں

    RECITATIONS

    عزیز نبیل

    عزیز نبیل

    عزیز نبیل

    میں دسترس سے تمہاری نکل بھی سکتا ہوں عزیز نبیل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY