میں ایک ریت کا پیکر تھا اور بکھر بھی گیا

اسلم محمود

میں ایک ریت کا پیکر تھا اور بکھر بھی گیا

اسلم محمود

MORE BY اسلم محمود

    میں ایک ریت کا پیکر تھا اور بکھر بھی گیا

    عجب تھا خواب کہ میں خواب ہی میں ڈر بھی گیا

    ہوا بھی تیز نہ تھی اور چراغ مر بھی گیا

    میں سامنے بھی رہا ذہن سے اتر بھی گیا

    نہ احتیاط کوئی کام آیا عشق کے ساتھ

    جو روگ دل میں چھپا تھا وہ کام کر بھی گیا

    عجب تھی ہجر کی ساعت کہ جاں پہ بن آئی

    کڑا تھا وقت وہ دل پر مگر گزر بھی گیا

    ہوا سے دوستی جس کو تھا مشورہ میرا

    اسی چراغ کی لو سے میں آج ڈر بھی گیا

    کبھی نہ مجھ کو ڈرائے گا میرے باطن سے

    یہ عہد کر کے مرا آئینہ مکر بھی گیا

    کنارے والے مجھے بس صدائیں دیتے رہے

    بھنور کو ناؤ بنا کر میں پار اتر بھی گیا

    میں خاک پا سہی کم تر مجھے نہ جان کہ میں

    غبار بن کے اٹھا آسمان پر بھی گیا

    میں اپنے جسم کے اندر تھا عافیت سے مگر

    لہو کے سیل بلا خیز میں یہ گھر بھی گیا

    خطا یہ تھی کہ میں آسانیوں کا طالب تھا

    سزا یہ ہے کہ مرا تیشۂ ہنر بھی گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY