میں گلا تم سے کروں اے یار کس کس بات کا

امداد علی بحر

میں گلا تم سے کروں اے یار کس کس بات کا

امداد علی بحر

MORE BYامداد علی بحر

    میں گلا تم سے کروں اے یار کس کس بات کا

    یہ کہانی دن کی ہو جائے نہ قصہ رات کا

    ترک کی مجھ سے ملاقات آپ نے اچھا کیا

    غم مٹا ہر وقت کا جھگڑا گیا دن رات کا

    بے تمیزوں سے طبیعت آشنا ہوتی نہیں

    چاہنے والا ہوں میں محبوب خوش اور رات کا

    میں تو کچھ کہتا ہوں تم سے تم سمجھتے ہو کچھ اور

    جبکہ باتوں میں کلام آیا مزا کیا بات کا

    تیرے آنے کی دعا مانگا کبھی جاگا کیے

    رات بھر عالم رہا اے بت خدائی رات کا

    واہ کیا نام خدا سج دھج ہے کیا انداز ہے

    آدمی دیکھا نہیں اس قد کا اور اس کات کا

    سامنے یوں آئے بوتل جیسے آتی ہے گھٹا

    جام یوں جھلکے کہ میں دیکھوں سماں برسات کا

    عشق وہ غارت گر ایماں ہے یہ چاہے اگر

    واعظوں کو کلمہ پڑھوائے منات و لات کا

    ایسے جھوٹے ہو اگر سچ بھی کبھی ہو بولتے

    اعتبار آتا نہیں صاحب تمہاری بات کا

    یار تم کو دل نہیں دینے کا بے‌ بوسہ لیے

    تم جو اپنی گونگے ہو میں بھی ہوں اپنی گھات کا

    اہل دنیا خوش ہوں یا نا خوش ہوں کچھ پروا نہیں

    آسرا رکھتا ہے یہ بندہ خدا کی ذات کا

    جب تمہاری کان کی بجلی چمک کر رہ گئی

    میری آنکھوں نے سماں دکھلا دیا برسات کا

    قامت جاناں ہے میل منزل اول مجھے

    کاکل شب گوں ہے جادہ وادیٔ آفات کا

    تاش کا موباف چوٹی میں مقرر چاہئے

    چاندنی سے اور ہی ہوتا ہے جوبن رات کا

    بحرؔ اپنی اپنی قسمت ہے بہ شکل مہر و ماہ

    زر اسے بخشا اسے کاسہ دیا خیرات کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY