میں ہی نہیں ہوں برہم اس زلف کج ادا سے

رضا عظیم آبادی

میں ہی نہیں ہوں برہم اس زلف کج ادا سے

رضا عظیم آبادی

MORE BYرضا عظیم آبادی

    میں ہی نہیں ہوں برہم اس زلف کج ادا سے

    ٹک منہ ترا جو پائیں الجھیں ابھی ہوا سے

    تم نے نکالنے میں کچھ کم نہ کیں جفائیں

    اب تک جو تھم رہے ہیں ہم اپنی ہی وفا سے

    پہلی نگہ میں دل پر برچھی سی لگ گئی ہے

    پہنچے تھے انتہا کو ہم اس کی ابتدا سے

    رکھنا قدم زمیں پر ٹک دیکھ کر پیارے

    دل راہ میں پڑے ہیں لاکھوں کے نقش پا سے

    جا اے طبیب یاں سے اتنا نہیں سمجھتا

    بیماریٔ محبت کس کی گئی دوا سے

    میں عاشق بلا ہوں کرتا ہوں اس کو سجدہ

    خاک قدم کو اس کی جو آؤ کربلا سے

    مشہور تھی بزرگی ان کی سبھوں سے لیکن

    اپنے تئیں تعارف چنداں نہ تھا ضیا سے

    اکثر گلی سے اس کی دیکھا تھا میں نے جاتے

    ہو گئے تھے اس سبب سے کچھ صورت آشنا سے

    کل ان کو میں نے دیکھا سر ننگے پا برہنہ

    جامہ جو ہے گلی میں سو ٹکڑے جا بہ جا سے

    در پردہ یوں میں ان سے پوچھا کہ قبلۂ من

    کیوں آج اس قدر ہیں آزردہ و خفا سے

    محجوب سے وہ ہو کر کہنے لگے نہ پوچھو

    مر جائیں یا الٰہی چھوٹیں کہیں بلا سے

    یہ طرفہ ماجرا ہے اک جا پہ دل دیا ہے

    پر قہر ہیں وہاں کے لونڈے ذرا ذرا سے

    اتنی سی عمر میں یہ عیاریاں ہیں کرتے

    لیتے ہیں دل کو پہلے دے دے بہت دلاسے

    جب دیکھتے ہیں آیا اب اختیار میں دل

    جو دیکھیو تو پھر پیش آتے ہیں اس ادا سے

    میں نے کہا کہ حضرت آپ اپنی طرف دیکھیں

    جو ان بتوں سے ہوگا سو ہوگا وہ خدا سے

    بے اختیار ہو کر بولے کہ سچ ہے صاحب

    واقف نہیں ہوئے ہو عشق ہوس فزا سے

    دریا کے رہنے والے کیا جانیں اس اثر کو

    پانی کی قدر پوچھو ان سے جو ہیں پیاسے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY