میں جرم خموشی کی صفائی نہیں دیتا

انور مسعود

میں جرم خموشی کی صفائی نہیں دیتا

انور مسعود

MORE BYانور مسعود

    میں جرم خموشی کی صفائی نہیں دیتا

    ظالم اسے کہیے جو دہائی نہیں دیتا

    کہتا ہے کہ آواز یہیں چھوڑ کے جاؤ

    میں ورنہ تمہیں اذن رہائی نہیں دیتا

    چرکے بھی لگے جاتے ہیں دیوار بدن پر

    اور دست ستم گر بھی دکھائی نہیں دیتا

    آنکھیں بھی ہیں رستا بھی چراغوں کی ضیا بھی

    سب کچھ ہے مگر کچھ بھی سجھائی نہیں دیتا

    اب اپنی زمیں چاند کے مانند ہے انورؔ

    بولیں تو کسی کو بھی سنائی نہیں دیتا

    مآخذ :
    • کتاب : ik daraicha ik chirag (Pg. 34)
    • Author : ANWAR MASOOD
    • مطبع : Dost Publications (2008)
    • اشاعت : 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY