میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھی

محسن نقوی

میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھی

محسن نقوی

MORE BYمحسن نقوی

    میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھی

    مجھے خود سے بھی وحشت ہو رہی تھی

    اسے جکڑا ہوا تھا زندگی نے

    سرہانے موت بیٹھی رو رہی تھی

    کھلا مجھ پر کہ میری خوش نصیبی

    مرے رستے میں کانٹے بو رہی تھی

    مجھے بھی نارسائی کا ثمر دے

    مجھے تیری تمنا جو رہی تھی

    مرا قاتل مرے اندر چھپا تھا

    مگر بد نام خلقت ہو رہی تھی

    بغاوت کر کے خود اپنے لہو سے

    غلامی داغ اپنے دھو رہی تھی

    لبوں پر تھا سکوت مرگ لیکن

    مرے دل میں قیامت سو رہی تھی

    بجز موج فنا دنیا میں محسنؔ

    ہماری جستجو کس کو رہی تھی

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY