میں خود ہوں نقد مگر سو ادھار سر پر ہے

فضا ابن فیضی

میں خود ہوں نقد مگر سو ادھار سر پر ہے

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    میں خود ہوں نقد مگر سو ادھار سر پر ہے

    عجب وبال‌ غم روزگار سر پر ہے

    گماں ہے سب کو کہ ہوں آسماں اٹھائے ہوئے

    سفر سفر وہ قدم کا غبار سر پر ہے

    ہوائے جاں کا تقاضا کہ رہیے گھر سے دور

    کہ ہیں جو گھر میں بیاباں ہزار سر پر ہے

    سبک نہ سمجھو مجھے پشت ٹوٹ جائے گی

    میں ایک پل سہی صدیوں کا بار سر پر ہے

    زمیں کے ذمے ہے جو قرض کیوں چکاؤں میں

    زمانہ کس لیے آخر سوار سر پر ہے

    ہزار گھاٹے کا سودا ہو یہ فقیریٔ حرف

    یہی بہت ہے کلاہ وقار سر پر ہے

    فضاؔ نہ تھا کبھی تازہ دماغ اتنا میں

    ہے اس کا ہاتھ کہ شاخ‌ بہار سر پر ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY