میں لوٹ آؤں کہیں تو یہ سوچتا ہی نہ ہو

شاذ تمکنت

میں لوٹ آؤں کہیں تو یہ سوچتا ہی نہ ہو

شاذ تمکنت

MORE BY شاذ تمکنت

    میں لوٹ آؤں کہیں تو یہ سوچتا ہی نہ ہو

    کہ رات دیر گئے تیرا در کھلا ہی نہ ہو

    نہیں کہ زیست سے کچھ واسطہ پڑا ہی نہ ہو

    میں کیسے مانوں ترا دل کبھی دکھا ہی نہ ہو

    تلاش کر اسے دیوار و در کے چہروں میں

    عجب نہیں تری محفل سے وہ اٹھا ہی نہ ہو

    اک اعتماد وفا ہے کہ جی رہا ہوں میں

    کہ میرے حال کا شاید اسے پتہ ہی نہ ہو

    یہ راستہ تو اسی در پہ جا کے رکتا تھا

    کہ وہ خفا ہے تو یہ راستہ مڑا ہی نہ ہو

    میں یوں ہی اس سے خفا ہوں مگر مجھے ڈر ہے

    منانے والا حقیقت میں خود خفا ہی نہ ہو

    مجھے تو تجھ پہ خود اپنا گماں گزرتا ہے

    ترا تھکا ہوا لہجہ مری دعا ہی نہ ہو

    گناہ اور حسیں، اہرمن کے بس میں نہیں

    ستم ظریف کوئی بندۂ خدا ہی نہ ہو

    میں سوچتا ہوں کہ آپ اپنی دشمنی کیا ہے

    مرا وجود مری ذات سے جدا ہی نہ ہو

    بڑے بڑوں کے نشیب و فراز دیکھے ہیں

    کوئی ملے تو سہی جس کا سر جھکا ہی نہ ہو

    نہ جانے کتنے ہیں سیارگان نادیدہ

    تو انتہا جسے کہتا ہے ابتدا ہی نہ ہو

    وہ لاکھ غم سہی ایسا نہیں یہ دنیا ہے

    کہ شاذؔ اس سے بچھڑ کر کبھی ہنسا ہی نہ ہو

    مآخذ:

    • Book : Kulliyat-e- Shaz Tamkanat (Pg. 466)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY