میں نے اے دل تجھے سینے سے لگایا ہوا ہے

اجمل سراج

میں نے اے دل تجھے سینے سے لگایا ہوا ہے

اجمل سراج

MORE BYاجمل سراج

    میں نے اے دل تجھے سینے سے لگایا ہوا ہے

    اور تو ہے کہ مری جان کو آیا ہوا ہے

    بس اسی بوجھ سے دوہری ہوئی جاتی ہے کمر

    زندگی کا جو یہ احسان اٹھایا ہوا ہے

    کیا ہوا گر نہیں بادل یہ برسنے والا

    یہ بھی کچھ کم تو نہیں ہے جو یہ آیا ہوا ہے

    راہ چلتی ہوئی اس راہ گزر پر اجملؔ

    ہم سمجھتے ہیں قدم ہم نے جمایا ہوا ہے

    ہم یہ سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں اس کو

    آج بے طرح ہمیں یاد جو آیا ہوا ہے

    وہ کسی روز ہواؤں کی طرح آئے گا

    راہ میں جس کی دیا ہم نے جلایا ہوا ہے

    کون بتلائے اسے اپنا یقیں ہے کہ نہیں

    وہ جسے ہم نے خدا اپنا بنایا ہوا ہے

    یوں ہی دیوانہ بنا پھرتا ہے ورنہ اجملؔ

    دل میں بیٹھا ہوا ہے ذہن پہ چھایا ہوا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : duniyaa zaad (Pg. 206)
    • Author : aasif farrakhii
    • مطبع : the sami sanz printer karachi (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے