میں نے ہر چند کہ اس کوچے میں جانا چھوڑا

غمگین دہلوی

میں نے ہر چند کہ اس کوچے میں جانا چھوڑا

غمگین دہلوی

MORE BYغمگین دہلوی

    میں نے ہر چند کہ اس کوچے میں جانا چھوڑا

    پر تصور میں مرے اس نے نہ آنا چھوڑا

    اس نے کہنے سے رقیبوں کے مجھے چھوڑ دیا

    جس کی الفت میں دلا تو نے زمانا چھوڑا

    اٹھ گیا پردۂ ناموس مرے عشق کا آہ

    اس نے کھڑکی میں جو چلمن کا لگانا چھوڑا

    ہاتھ سے میرے وہ پیتا نہیں مدت سے شراب

    یارو کیا اپنی خوشی میں نے پلانا چھوڑا

    تیرے غمگیںؔ کو پریشانی ہے اس روز سے یار

    تو نے جس روز سے زلفوں کا بنانا چھوڑا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY