میں نے خود کو جو ہے کیا خاموش

عرفان عابدی مانٹوی

میں نے خود کو جو ہے کیا خاموش

عرفان عابدی مانٹوی

MORE BYعرفان عابدی مانٹوی

    میں نے خود کو جو ہے کیا خاموش

    درد بھی ہو گیا مرا خاموش

    جب مرے پاؤں میں تھکن نہ ملی

    ہو گیا میرا راستہ خاموش

    دے رہی تھی صدا محبت کی

    ہو گئی ہے وہی صبا خاموش

    اس کو سارے جواب ملتے تھے

    میں سوالوں پہ جب رہا خاموش

    زور طوفاں نے سب لگا ڈالا

    پر ہوا نہ مرا دیا خاموش

    بولنا میں بھی چاہتا تھا مگر

    کچھ زبانوں نے کر دیا خاموش

    موت کی کیا اسے ضرورت ہے

    اب تو عرفانؔ ہو گیا خاموش

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY