میں نے تجھ کو کھویا تھا میں نے تجھ کو پایا ہے

معصوم شرقی

میں نے تجھ کو کھویا تھا میں نے تجھ کو پایا ہے

معصوم شرقی

MORE BY معصوم شرقی

    میں نے تجھ کو کھویا تھا میں نے تجھ کو پایا ہے

    وہ بھی ایک دھوکہ تھا یہ بھی ایک دھوکہ ہے

    بیٹھے شیش محلوں میں تم سمجھ نہ پاؤ گے

    خار کیسے پاؤں میں درد بن کے چبھتا ہے

    دور ہو نگاہوں سے پاس ہو رگ جاں کے

    دل کا دل سے رشتہ ہے اس میں معجزہ کیا ہے

    اصل زندگی ہے کیا کیا کھلے کہ تم نے تو

    سانس کی کسوٹی پر زندگی کو پرکھا ہے

    خون آرزوؤں کا گھل گیا نہ ہو شرقیؔ

    صبح نو کے ماتھے پر احمریں اجالا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY