میں نے ان سے جو کہا دھیان مرا کچھ بھی نہیں

دتا تریہ کیفی

میں نے ان سے جو کہا دھیان مرا کچھ بھی نہیں

دتا تریہ کیفی

MORE BY دتا تریہ کیفی

    میں نے ان سے جو کہا دھیان مرا کچھ بھی نہیں

    ہائے کس ناز سے ہنس ہنس کے کہا کچھ بھی نہیں

    عرض کی کچھ دل عاشق کی خبر ہے تو کہا

    ہاں نہیں کچھ نہیں بس کہہ تو دیا کچھ بھی نہیں

    تو نہ آیا شب وعدہ تو گیا کیا تیرا

    مر مٹے ہم ترے نزدیک ہوا کچھ بھی نہیں

    کیا ہے انجام محبت کوئی پوچھے ہم سے

    جیتے جی خاک میں ملنے کے سوا کچھ بھی نہیں

    کس کی مہر اور وفا اب ہے جفا سے بھی گریز

    کیوں نہ جل کر کہیں الفت میں مزا کچھ بھی نہیں

    آنکھوں ہی آنکھوں میں دل لے گیا سینہ سے نکال

    ہاتھ سے ہم نے دیا اس نے لیا کچھ بھی نہیں

    مرے اللہ یہ پتھر کہ بتوں کا دل ہے

    رحم رسوائی کا ڈر خوف خدا کچھ بھی نہیں

    کون سا درد ہے جس کا نہیں دنیا میں علاج

    لیکن اس درد محبت کی دوا کچھ بھی نہیں

    دیکھا کیفیؔ کو تو بے ساختہ یوں بول اٹھے

    اب تو بیمار محبت میں رہا کچھ بھی نہیں

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY