میں رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں میں

فرحت احساس

میں رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں میں

فرحت احساس

MORE BY فرحت احساس

    میں رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں میں

    اور اس کے بعد گہری نیند سونا چاہتا ہوں میں

    ترے ہونٹوں کے صحرا میں تری آنکھوں کے جنگل میں

    جو اب تک پا چکا ہوں اس کو کھونا چاہتا ہوں میں

    یہ کچی مٹیوں کا ڈھیر اپنے چاک پر رکھ لے

    تری رفتار کا ہم رقص ہونا چاہتا ہوں میں

    ترا ساحل نظر آنے سے پہلے اس سمندر میں

    ہوس کے سب سفینوں کو ڈبونا چاہتا ہوں میں

    کبھی تو فصل آئے گی جہاں میں میرے ہونے کی

    تری خاک بدن میں خود کو بونا چاہتا ہوں میں

    مرے سارے بدن پر دوریوں کی خاک بکھری ہے

    تمہارے ساتھ مل کر خود کو دھونا چاہتا ہوں میں

    RECITATIONS

    فرحت احساس

    فرحت احساس

    فرحت احساس

    میں رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں میں فرحت احساس

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY