میں شرمسار ہوں اپنے ضمیر کے آگے

خالد ملک ساحل

میں شرمسار ہوں اپنے ضمیر کے آگے

خالد ملک ساحل

MORE BYخالد ملک ساحل

    میں شرمسار ہوں اپنے ضمیر کے آگے

    کہ ہاتھ خالی تھا میرا فقیر کے آگے

    مرا یقین تھا حد گمان کے اندر

    کبھی بھی سوچا نہیں ہے لکیر کے آگے

    کوئی تو جذبہ تھا مہجور کے خیالوں میں

    پگھل رہی تھیں سلاسل اسیر کے آگے

    چراغ سحری تھا لیکن عجیب روشن تھا

    چمک رہا تھا وہ ماہ منیر کے آگے

    میں کیسے اس کے لکھے پر یقین کر لیتا

    قلم بھی گروی تھا جس کا امیر کے آگے

    ہر ایک شخص تھا کمزور و ناتواں ساحلؔ

    بدن دریدہ تھا ہر اک شریر کے آگے

    مأخذ :
    • کتاب : اردو غزل کا مغربی دریچہ(یورپ اور امریکہ کی اردو غزل کا پہلا معتبر ترین انتخاب) (Pg. 552)
    • مطبع : کتاب سرائے بیت الحکمت لاہور کا اشاعتی ادارہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY