میں تو بیٹھا تھا ہر اک شے سے کنارا کر کے

مبشر سعید

میں تو بیٹھا تھا ہر اک شے سے کنارا کر کے

مبشر سعید

MORE BY مبشر سعید

    میں تو بیٹھا تھا ہر اک شے سے کنارا کر کے

    وقت نے چھوڑ دیا دوست تمہارا کر کے

    بات دریا بھی کبھی رک کے کیا کرتا تھا

    اب تو ہر موج گزرتی ہے اشارا کر کے

    وہ عجب دشمن جاں تھا جو مجھے چھوڑ گیا

    میرے اندر ہی کہیں مجھ کو صف آرا کر کے

    اک دیا اور جلایا ہے سحر ہونے تک

    شب ہجراں ترے نام ایک ستارا کر کے

    جب سے جاگی ہے ترے لمس کی خواہش دل میں

    رہنا پڑتا ہے مجھے خود سے کنارا کر کے

    دشت چھانے گا تری خاک محبت سے سعیدؔ

    عشق دیکھے گا تجھے سارے کا سارا کر کے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY