میں اس بت کا وصل اے خدا چاہتا ہوں

امداد علی بحر

میں اس بت کا وصل اے خدا چاہتا ہوں

امداد علی بحر

MORE BYامداد علی بحر

    میں اس بت کا وصل اے خدا چاہتا ہوں

    مرض عشق کا ہے دوا چاہتا ہوں

    بیان ملاحت کیا چاہتا ہوں

    سخن میں نمک کا مزا چاہتا ہوں

    نہ دیکھوں میں اس گل کے پہلو میں کانٹا

    اڑے غیر ایسی ہوا چاہتا ہوں

    مجھے تسمہ بندی ہو اے زلف پیچاں

    فقیر آج کل میں ہوا چاہتا ہوں

    لگی بے طرح ہے خدا ہی بچائے

    سلگتا ہے دل میں جلا چاہتا ہوں

    بہت کروٹیں لیں نہیں نیند آتی

    بغل میں کوئی دل ربا چاہتا ہوں

    محبت میں یہ عقل زائل ہوئی ہے

    کہ اہل دغا سے وفا چاہتا ہوں

    کھلے حال بیمار چشم سخن گو

    اشاروں میں باتیں کیا چاہتا ہوں

    برا مان جاؤ گے منہ پھیر لو گے

    نہ پوچھو قسم دے کے کیا چاہتا ہوں

    نگاہیں الجھتی ہیں زلفوں میں بے ڈھب

    ان آنکھوں کے ہاتھوں پھنسا چاہتا ہوں

    مہ نو کے مصرع میں مصرع لگاؤں

    میں اتنی طبیعت رسا چاہتا ہوں

    ہوئے چارہ جو کب مریض محبت

    خدا موت دے جو شفا چاہتا ہوں

    وہی دشمن جاں ہے اے بحرؔ میرا

    جسے جان سے میں سوا چاہتا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY