میں اسے سوچتا رہا یعنی

ادریس بابر

میں اسے سوچتا رہا یعنی

ادریس بابر

MORE BYادریس بابر

    میں اسے سوچتا رہا یعنی

    وہ مرا خواب ہے خدا یعنی

    ہجر سے ہجر تک تھی یہ ہجرت

    وہ ملا یعنی کھو گیا یعنی

    گردش مہر و ماہ کا حاصل

    یعنی میرا وجود لا یعنی

    دل کہاں شہسوار دنیا تھا

    سو گرا گر کے مر گیا یعنی

    تو مجھے اس کا نام بھول گیا

    ہو گیا میں بھی لاپتا یعنی

    کام کی بات پوچھتے کیا ہو

    کچھ ہوا کچھ نہیں ہوا یعنی

    چلتے رہئے تو سوکھ جائے گا

    یہ سمندر یہ آبلہ یعنی

    یعنی تم سے تو میں ملا ہی نہیں

    وہ کوئی اور شخص تھا یعنی

    کوئی آواز ٹوٹنے کی نہیں

    دل میں اک بات ہے خلا یعنی

    اس کو خوش دیکھ کر وہاں بابرؔ

    میں بھی خوش تھا اداس تھا یعنی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY