میں یہاں شور کس لئے کرتا

جعفر ساہنی

میں یہاں شور کس لئے کرتا

جعفر ساہنی

MORE BYجعفر ساہنی

    میں یہاں شور کس لئے کرتا

    دھر لیا جاؤں گا یہ امکاں تھا

    دیکھیے رخ ہوا کا کب ٹھہرے

    آ گیا لے کے وہ دیا جلتا

    پیڑ پودے تو خوف کھاتے ہیں

    گھاس پر اس کا بس نہیں چلتا

    اڑ گیا آخرش میں کمرے سے

    کب تلک جیتے جی یہاں مرتا

    میرے اندر جو ڈھونڈھتا تھا مجھے

    اس سے کٹ کر میں مل چکا کب کا

    خواب دے کر یہ پھول لایا ہوں

    کہئے مہنگا ملا ہے یا سستا

    عید کا دن تو ہے مگر جعفرؔ

    میں اکیلے تو ہنس نہیں سکتا

    مآخذ:

    • کتاب : Shayad (Pg. 15)
    • Author : Jafar Sahni
    • مطبع : Yawar Hussain (2012)
    • اشاعت : 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY