مجبور تو بہت ہیں محبت میں جی سے ہم

رام کرشن مضطر

مجبور تو بہت ہیں محبت میں جی سے ہم

رام کرشن مضطر

MORE BYرام کرشن مضطر

    مجبور تو بہت ہیں محبت میں جی سے ہم

    یہ اور بات ہے نہ کہیں کچھ کسی سے ہم

    اک شام ہم سخن تھے چمن میں کلی سے ہم

    یادش بخیر پھر نہ ملے زندگی سے ہم

    اللہ رے وہ وقت وہ مجبورئ حیات

    رو رو کے ہو رہے تھے جدا جب کسی سے ہم

    تکلیف التفات نہ کر اے نگاہ ناز

    اب مطمئن ہیں اپنے غم زندگی سے ہم

    ہیں یاد اس نظر کی تغافل شعاریاں

    با وصف ارتباط بھی تھے اجنبی سے ہم

    بڑھتی ہی جا رہی ہیں عبث بدگمانیاں

    نا آشنا نہیں ہیں تری برہمی سے ہم

    ایک اک ادائے حسن گریزاں نظر میں ہے

    پامال ہو رہے ہیں بڑی بے رخی سے ہم

    ہر سو ہے ایک عالم وحشت شب فراق

    گھبرا رہے ہیں سلسلۂ تیرگی سے ہم

    غارت کیا ہے جس نے ہمارا سکون دل

    مضطرؔ سکون دل کے ہیں خواہاں اسی سے ہم

    مآخذ:

    Raqs-e-bahar
    • Raqs-e-bahar

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY