منظروں کی بھیڑ ایسی تو کبھی دیکھی نہ تھی

کامل اختر

منظروں کی بھیڑ ایسی تو کبھی دیکھی نہ تھی

کامل اختر

MORE BYکامل اختر

    منظروں کی بھیڑ ایسی تو کبھی دیکھی نہ تھی

    گاؤں اچھا تھا مگر اس میں کوئی لڑکی نہ تھی

    روح کے اندر خلا ہے یہ مجھے معلوم تھا

    کھوکھلا ہے جسم بھی اس کی خبر پہنچی نہ تھی

    ہاتھ تھاما ہے سدا کے واسطے ویسے مگر

    ساتھ اس کا چھوڑنے میں کچھ برائی بھی نہ تھی

    ان دنوں بھی درد کا سایہ مرے ہمراہ تھا

    جب دھواں بن کر وہ میرے ذہن پر چھائی نہ تھی

    جذب ہو جانے کا قصہ خود سے بھی منسوب کر

    بھول میری تھی اگر تو بھی کوئی دیوی نہ تھی

    رنگ پکا ہو چلا تھا یاد آتا ہے مگر

    دھوپ میرے جسم پر تب ٹھیک سے بھیگی نہ تھی

    خواہشوں کا وہ جزیرہ بھی تو آخر بہہ گیا

    خوف و خطرہ کی جہاں پر کوئی آبادی نہ تھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY