منزلیں اور بھی ہیں وہم و گماں سے آگے

عبید الرحمان

منزلیں اور بھی ہیں وہم و گماں سے آگے

عبید الرحمان

MORE BYعبید الرحمان

    منزلیں اور بھی ہیں وہم و گماں سے آگے

    ہم کو کرنا ہے سفر قید مکاں سے آگے

    پیکر شعر کو ملبوس عطا کیا کیجے

    جب تخیل کی ہو پرواز بیاں سے آگے

    آب اور خاک کی یہ بزم ہمیں کیا راس آتی

    ہم کو جانا تھا ستاروں کے جہاں سے آگے

    کب تلک دیر و حرم کی یہ حدیث بے سود

    مسئلے اور ہیں ناقوس و اذاں سے آگے

    جستجو اور ہے کچھ اہل جنوں کی ورنہ

    کون کرتا ہے سفر جائے اماں سے آگے

    کرب کو اپنے تماشہ نہ بنایا جائے

    ہے ادب گاہ وفا آہ و فغاں سے آگے

    نذر اندیشہ نہ ہو جائے کہیں زیست عبیدؔ

    بات کچھ اور کریں سود و زیاں سے آگے

    مآخذ :
    • کتاب : Aawaz Ke Saye (Poetry) (Pg. 41)
    • Author : Obaidur Rahman
    • مطبع : Sehla Obaid (2001)
    • اشاعت : 2001

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY