منزلوں کی چاہ لے کر راستوں میں قید ہیں

بلال سہارن پوری

منزلوں کی چاہ لے کر راستوں میں قید ہیں

بلال سہارن پوری

MORE BYبلال سہارن پوری

    منزلوں کی چاہ لے کر راستوں میں قید ہیں

    جتنے تھے آزاد پنچھی گھونسلوں میں قید ہیں

    جو یہ کہتے تھے ہمارے پاؤں میں تل ہے جناب

    آج ایسے لوگ بھی اپنے گھروں میں قید ہیں

    تجھ سے پہلے تیرے جیسی شان و شوکت کے یہاں

    جانے کتنے بادشہ ان مقبروں میں قید ہیں

    جو کئے محسوس میں نے اس کو چھو کر پہلی بار

    آج بھی وہ ذائقے ان انگلیوں میں قید ہیں

    خود اٹھانا پڑ رہا ہے بوجھ اپنا آج کل

    حاشیہ بردار سارے حاشیوں میں قید ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY