مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا

محمد رفیع سودا

مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا

محمد رفیع سودا

MORE BYمحمد رفیع سودا

    مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا

    جوں شمع سراپا ہو اگر صرف زباں کا

    پردے کو تعین کے در دل سے اٹھا دے

    کھلتا ہے ابھی پل میں طلسمات جہاں کا

    ٹک دیکھ صنم خانۂ عشق آن کے اے شیخ

    جوں شمع حرم رنگ جھلکتا ہے بتاں کا

    اس گلشن ہستی میں عجب دید ہے لیکن

    جب چشم کھلی گل کی تو موسم ہے خزاں کا

    دکھلائیے لے جا کے تجھے مصر کا بازار

    لیکن نہیں خواہاں کوئی واں جنس گراں کا

    ہستی سے عدم تک نفس چند کی ہے راہ

    دنیا سے گزرنا سفر ایسا ہے کہاں کا

    سوداؔ جو کبھو گوش سے ہمت کے سنے تو

    مضمون یہی ہے جرس دل کی فغاں کا

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY