مرنا جینا وفا حیا کیا ہے

اشراق عزیزی

مرنا جینا وفا حیا کیا ہے

اشراق عزیزی

MORE BYاشراق عزیزی

    مرنا جینا وفا حیا کیا ہے

    ہم سے پوچھو یہ مدعا کیا ہے

    جو بھی ہے صاف صاف بولے وہ

    بے خبر ہے خفا خفا کیا ہے

    میرا محبوب ہے مرا مصرع

    بول اب تیرا قافیہ کیا ہے

    جس کو ہم نے نچوڑ پھینکا ہے

    اس جوانی میں اب بچا کیا ہے

    میں نے اپنے طبیب سے پوچھا

    درد وہ ہے تو پھر دوا کیا ہے

    ہم جوانی تلک پہنچ آئے

    یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے

    تم خدائی کا دعویٰ کرتے ہو

    تم خدا ہو تو پھر خدا کیا ہے

    پہلے جاں میرے لب تک آ جائے

    پھر بتاؤں گا حوصلہ کیا ہے

    خشک لب تین دن کی فاقہ کشی

    تم نا سمجھو گے کربلا کیا ہے

    نام اشراقؔ ہے عزیزیؔ ہے

    سچ بتا تیرا نام کیا کیا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY