مرنے کی مجھ کو آپ سے ہیں اضطرابیاں

تاباں عبد الحی

مرنے کی مجھ کو آپ سے ہیں اضطرابیاں

تاباں عبد الحی

MORE BYتاباں عبد الحی

    مرنے کی مجھ کو آپ سے ہیں اضطرابیاں

    کرتا ہے میرے قتل کو تو کیوں شتابیاں

    میرا ہی خانماں نہیں ویراں ہوا کوئی

    بہتوں کی کی ہیں عشق نے خانہ خرابیاں

    خوان فلک پہ نعمت الوان ہے کہاں

    خالی ہے مہر و ماہ کی دونوں رکابیاں

    ہرگز خم فلک میں نہیں ہے شراب عشق

    غنچوں کی خون دل سے بھری ہیں گلابیاں

    حلقوں سے اس کی زلف کے رخسار ہے عیاں

    تاباںؔ جتھے میں دیکھو ہیں کیا ماہتابیاں

    مأخذ :
    • Deewan-e-Taban Rekhta Website)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY