مرتے دم او بے وفا دیکھا تجھے

منور خان غافل

مرتے دم او بے وفا دیکھا تجھے

منور خان غافل

MORE BY منور خان غافل

    مرتے دم او بے وفا دیکھا تجھے

    اک نظر دیکھا تو کیا دیکھا تجھے

    اے پری رو کیوں نہ میں دیوانہ ہوں

    بال کھولے بارہا دیکھا تجھے

    نکہت گل بھی نہ لائی تا قفس

    چل ہوا ہو اے صبا دیکھا تجھے

    گریۂ بلبل پر اس نے ہنس دیا

    جس نے اے گل گوں قبا دیکھا تجھے

    دید میں ہر چند سو نقصان تھے

    فائدہ اک یہ ہوا دیکھا تجھے

    حلقۂ گیسو ہے گردن میں پڑا

    آپ اپنا مبتلا دیکھا تجھے

    کیا تری نیرنگیاں کیجے بیان

    سب میں اور سب سے جدا دیکھا تجھے

    برق‌ آفت آج ہی ہم پر گری

    ورنہ ہنستے بارہا دیکھا تجھے

    آج تک اے بیکسی چھوڑا نہ ساتھ

    ایک ثابت آشنا دیکھا تجھے

    دزدیٔ دل کا یقیں ہو کس طرح

    کس نے اے دزد حنا دیکھا تجھے

    ہم نے غافلؔ بت کدے میں دہر کے

    ایک مرد باخدا دیکھا تجھے

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY