متاع بے بہا آنسو زمیں میں بو دیا تھا

محمد اظہار الحق

متاع بے بہا آنسو زمیں میں بو دیا تھا

محمد اظہار الحق

MORE BYمحمد اظہار الحق

    متاع بے بہا آنسو زمیں میں بو دیا تھا

    پلٹ کر جب ترا گھر میں نے دیکھا رو دیا تھا

    عصا در دست ہوں اس دن سے بینائی نہیں ہے

    ستارہ آنکھ میں آیا تھا میں نے کھو دیا تھا

    زمانے حسن ثروت ہیچ سب اس کے مقابل

    تہی کیسہ کو اس پہلی نظر نے جو دیا تھا

    پروں کی ارغوانی چھاؤں پھیلائی تھی سر پر

    بہشتی نہر کا پانی مسافر کو دیا تھا

    بس اک قندیل تھی جلتی ہوئی اپنے لہو میں

    یہی نذرانہ دینا تھا حرم میں سو دیا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY