موسم گل پھر آنے لگا ہے

جاوید صدیقی اعظمی

موسم گل پھر آنے لگا ہے

جاوید صدیقی اعظمی

MORE BYجاوید صدیقی اعظمی

    موسم گل پھر آنے لگا ہے

    پھر وہی غم ستانے لگا ہے

    آنکھ کی یہ نمی کہہ رہی ہے

    یاد پھر کوئی آنے لگا ہے

    دیکھ کر اس کے ہاتھوں میں پتھر

    آئنہ مسکرانے لگا ہے

    اب سراپا غزل بن گئے وہ

    ہر کوئی گنگنانے لگا ہے

    پوری کر دی کسر عاشقی نے

    جا کے دل اب ٹھکانے لگا ہے

    آؤ جاویدؔ ہم بھی چلیں اب

    بزم سے وہ بھی جانے لگا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY