میسر خود نگہ داری کی آسائش نہیں رہتی

صائمہ اسما

میسر خود نگہ داری کی آسائش نہیں رہتی

صائمہ اسما

MORE BY صائمہ اسما

    میسر خود نگہ داری کی آسائش نہیں رہتی

    محبت میں تو پیش و پس کی گنجائش نہیں رہتی

    اندھیرے اور بھی کچھ تیز رفتاری سے بڑھتے ہیں

    دیا کوئی جلانے کی جہاں کوشش نہیں رہتی

    یہ دل تو کس طرف جانے بہا کر لے گیا ہوتا

    نگاہوں میں اگر وہ ساعت پرسش نہیں رہتی

    مہ و انجم سے لوٹ آئیں اجارہ دار دنیا کے

    جہاں یہ پاؤں رکھتے ہیں وہاں تابش نہیں رہتی

    بہت سے پھول لہجے خار ہوتے ہم نے دیکھے ہیں

    کسی شیریں نوا کی دل کو اب خواہش نہیں رہتی

    مثلث کا خط ثالث مجھے مل کر نہیں دیتا

    کبھی قسمت سے وہ رک جائے تو بارش نہیں رہتی

    مآخذ:

    • کتاب : Gul-e-Dupahar (Pg. 93)
    • Author : Saima Asma
    • مطبع : Idarah Batool, Sayyed Palaza, Firozpur Road, Lahore (2006)
    • اشاعت : 2006

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY