مزے عشق کے کچھ وہی جانتے ہیں

داغؔ دہلوی

مزے عشق کے کچھ وہی جانتے ہیں

داغؔ دہلوی

MORE BYداغؔ دہلوی

    مزے عشق کے کچھ وہی جانتے ہیں

    کہ جو موت کو زندگی جانتے ہیں

    شب وصل لیں ان کی اتنی بلائیں

    کہ ہمدم مرے ہاتھ ہی جانتے ہیں

    نہ ہو دل تو کیا لطف آزار و راحت

    برابر خوشی ناخوشی جانتے ہیں

    جو ہے میرے دل میں انہیں کو خبر ہے

    جو میں جانتا ہوں وہی جانتے ہیں

    پڑا ہوں سر بزم میں دم چرائے

    مگر وہ اسے بے خودی جانتے ہیں

    کہاں قدر ہم جنس ہم جنس کو ہے

    فرشتوں کو بھی آدمی جانتے ہیں

    کہوں حال دل تو کہیں اس سے حاصل

    سبھی کو خبر ہے سبھی جانتے ہیں

    وہ نادان انجان بھولے ہیں ایسے

    کہ سب شیوۂ دشمنی جانتے ہیں

    نہیں جانتے اس کا انجام کیا ہے

    وہ مرنا میرا دل لگی جانتے ہیں

    سمجھتا ہے تو داغؔ کو رند زاہد

    مگر رند اس کو ولی جانتے ہیں

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    مزے عشق کے کچھ وہی جانتے ہیں فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY