میرا نہیں ہے اور نہ کسی اور ہی کا ہے

اتل اجنبی

میرا نہیں ہے اور نہ کسی اور ہی کا ہے

اتل اجنبی

MORE BYاتل اجنبی

    میرا نہیں ہے اور نہ کسی اور ہی کا ہے

    پرتو جہاں کہیں ہے تری روشنی کا ہے

    پنچھی درخت پھول تو منہ ڈھک کے سو گئے

    جنگل میں راج پاٹ بس اب چاندنی کا ہے

    لٹنے کا ڈر سہی پہ محبت کی راہ میں

    جانا تو اسی گلی سے ہر اک آدمی کا ہے

    برسوں پرانا زخم ہے ایسا ہرا مگر

    دیکھے طبیب تو وہ کہے آج ہی کا ہے

    گھر جل رہا ہے سامنے اس کو بچایئے

    پھر اس کے بعد اگلا مکاں آپ ہی کا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY