میرا تو نام ریت کے ساگر پہ نقش ہے

آزاد گلاٹی

میرا تو نام ریت کے ساگر پہ نقش ہے

آزاد گلاٹی

MORE BYآزاد گلاٹی

    میرا تو نام ریت کے ساگر پہ نقش ہے

    پھر کس کا نام ہے جو ترے در پہ نقش ہے

    پھینکا تھا ہم پہ جو کبھی اس کو اٹھا کے دیکھ

    جو کچھ لہو میں تھا اسی پتھر پہ نقش ہے

    شاید ادھر سے گزرا ہے اک بار تو کبھی

    تیری نظر کا لمس جو منظر پہ نقش ہے

    تیرا خیال مجھ سے گو مل کر بچھڑ گیا

    اس کی مہک کا عکس مرے گھر پہ نقش ہے

    میرے خطوں کو رکھ کے سرہانے وہ سو گیا

    جاگا تو میرے جسم کا بستر پہ نقش ہے

    اب اس میں جو بھی ڈالئے امرت سے کم نہیں

    جو ان لبوں پہ تھا وہی ساغر پہ نقش ہے

    جو زخم اک نظر سے ملا تھا وہ بھر گیا

    دھندلا سا داغ روح کے پیکر پہ نقش ہے

    خنجر چلا تھا مجھ پہ مگر معجزہ ہے یہ

    قاتل کا اپنا خون ہی خنجر پہ نقش ہے

    آزادؔ کون تھا جو تہوں میں اتر گیا

    کس کی حیات ہے جو سمندر پہ نقش ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY