میرا وجود اس کو گوارا نہیں رہا

زاہد چوہدری

میرا وجود اس کو گوارا نہیں رہا

زاہد چوہدری

MORE BY زاہد چوہدری

    میرا وجود اس کو گوارا نہیں رہا

    یوں راہ زندگی میں سہارا نہیں رہا

    فرقت میں اس کی صبر و تحمل تھا عشق میں

    وہ آ گیا تو ضبط کا یارا نہیں رہا

    ہر لحظہ شوق حسن میں یہ بیقرار ہے

    اب میرا دل کے ساتھ گزارا نہیں رہا

    میں اضطراب عشق میں حد سے گزر گیا

    ایسا مرض بڑھا ہے کہ چارہ نہیں رہا

    محفل سے میں اٹھا تو عجب تبصرہ ہوا

    کہنے لگا کہ اب یہ ہمارا نہیں رہا

    ہر چند بے رخی میں وہ حد سے گزر گیا

    کیسے کہوں کہ وہ مجھے پیارا نہیں رہا

    سوز نہاں کی آگ بھڑکتی ہے اس قدر

    یوں لگ رہا ہے عشق کا یارا نہیں رہا

    میں جل کے راکھ ہو گیا ہوں سوز عشق سے

    میں زندگی میں مثل شرارا نہیں رہا

    جب درد دل نہیں رہا تو یوں لگا مجھے

    گویا کہ زندگی کا سہارا نہیں رہا

    پرواز فکر نو نہیں پہنچی جہاں تلک

    ایسا فلک میں کوئی ستارا نہیں رہا

    جب موت آ گئی تو نئی زندگی ملی

    اب بحر زندگی کا کنارا نہیں رہا

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites