میرے گریہ سے نہ آزار اٹھانے سے ہوا

ضیاء المصطفیٰ ترکؔ

میرے گریہ سے نہ آزار اٹھانے سے ہوا

ضیاء المصطفیٰ ترکؔ

MORE BY ضیاء المصطفیٰ ترکؔ

    میرے گریہ سے نہ آزار اٹھانے سے ہوا

    فاصلہ طے نئی دیوار اٹھانے سے ہوا

    ورنہ یہ قصہ بھلا ختم کہاں ہونا تھا

    داستاں سے مرا کردار اٹھانے سے ہوا

    محمل ناز کی تاخیر کا یہ سارا فساد

    راہ افتادہ کو بیکار اٹھانے سے ہوا

    شاق گزرا ہے جو احباب کو وہ صدمہ بھی

    بزم میں مصرع تہہ دار اٹھانے سے ہوا

    یوں تو مصحف بھی اٹھائے گئے قسمیں بھی مگر

    آخری فیصلہ تلوار اٹھانے سے ہوا

    غم نہیں تخت کو اور بخت کو کھو دینے کا

    کب مرا ہونا بھی دستار اٹھانے سے ہوا

    جاگنا تھا مرا ہنگامۂ ہستی کا سبب

    حشر برپا بھی دگربار اٹھانے سے ہوا

    گوشۂ باغ ہوا خلد گزرنے سے ترے

    آئینہ عکس رخ یار اٹھانے سے ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites