میرے ہی آس پاس ہو تم بھی

آلوک مشرا

میرے ہی آس پاس ہو تم بھی

آلوک مشرا

MORE BY آلوک مشرا

    میرے ہی آس پاس ہو تم بھی

    ان دنوں کچھ اداس ہو تم بھی

    بارہا بات جینے مرنے کی

    ایک بکھری سی آس ہو تم بھی

    سیل نغمہ پہ اتنی حیرت کیوں

    اس نمی سے شناس ہو تم بھی

    میں بھی ڈوبا ہوں آسمانوں میں

    خواب میں محو یاس ہو تم بھی

    میں ہوں ٹوٹا سا پیمانہ

    ایک خالی گلاس ہو تم بھی

    گر میں دکھ سے سجا ہوا ہوں تو

    رنج سے خوش لباس ہو تم بھی

    اپنی فطرت کا میں بھی مارا ہوں

    اپنی عادت کے داس ہو تم بھی

    میری مٹی بھی ریت کی سی ہے

    اور صحرا کی پیاس ہو تم بھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY