میرے ہونٹوں پہ تیرے نام کی لرزش تو نہیں

فاضل جمیلی

میرے ہونٹوں پہ تیرے نام کی لرزش تو نہیں

فاضل جمیلی

MORE BYفاضل جمیلی

    میرے ہونٹوں پہ تیرے نام کی لرزش تو نہیں

    یہ جو آنکھوں میں چمک ہے کوئی خواہش تو نہیں

    رنگ ملبوس ہوئے لمس ہوئی ہے خوش بو

    آج پھر شہر میں پھولوں کی نمائش تو نہیں

    ایک ہی سانس میں دہرائے چلے جاتے ہیں

    یہ محبت کہیں الفاظ کی ورزش تو نہیں

    دیکھتا رہتا ہوں چپ چاپ گزرتے بادل

    یہ تعلق بھی کوئی دھوپ کی بارش تو نہیں

    تم کبھی ایک نظر میری طرف بھی دیکھو

    اک توقع ہی تو ہے کوئی گزارش تو نہیں

    مل بھی جائیں کہیں آنکھیں تو مرمت نہ کریں

    ہم میں ایسی کوئی تلخی کوئی رنجش تو نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY