میرے لفظوں سے چلی بات مرے لفظوں کی (ردیف .. ے)

یاسمین سحر

میرے لفظوں سے چلی بات مرے لفظوں کی (ردیف .. ے)

یاسمین سحر

MORE BYیاسمین سحر

    میرے لفظوں سے چلی بات مرے لفظوں کی

    طے ہوئی مجھ سے ملاقات مرے لفظوں کی

    میں نے یہ دل کے خزانے سے چرائے ہوئے ہیں

    کر نہیں سکتا کوئی بات مرے لفظوں کی

    شعر در شعر بٹھائے گئے مسند پر شعر

    یوں سجا دی گئی بارات مرے لفظوں کی

    اس نے تصویر کو تصویر کیا اور لے لی

    سیلفی ایک ایک مرے ساتھ مرے لفظوں کی

    نظم پر نظم سنانے کی ہوئی فرمائش

    یوں پذیرائی ہوئی رات مرے لفظوں کی

    میری تحریر پہ مضمون لکھے جانے لگے

    سر پہ پڑنے لگی برسات مرے لفظوں کی

    بھیڑ یہ سر پہ نہیں اپنے بٹھا سکتی میں

    کھینچ لیں آپ بھلے لات مرے لفظوں کی

    تحفتاً تین کتابیں اسے بھیجیں میں نے

    ہو قبول اس کو یہ سوغات مرے لفظوں کی

    اس سیاہی سے ابھرتی ہے سویرے کی کرن

    ڈھلنے لگتی ہے جہاں رات مرے لفظوں کی

    پیرہن اس نے محبت کے معانی کو دئے

    مالا پہنائی لگے ہاتھ مرے لفظوں کی

    میں نے احساس کی بھٹی سے گزارا ہوا ہے

    تم سمجھتے نہیں ہو بات مرے لفظوں کی

    تاج سر پر ہے مگر پاؤں میں بیٹھی ہوئی ہوں

    مجھ سے اونچی ہے سحرؔ ذات مرے لفظوں کے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY