میری دنیا میں ابھی رقص شرر ہوتا ہے

انجم اعظمی

میری دنیا میں ابھی رقص شرر ہوتا ہے

انجم اعظمی

MORE BYانجم اعظمی

    میری دنیا میں ابھی رقص شرر ہوتا ہے

    جو بھی ہوتا ہے بہ انداز دگر ہوتا ہے

    بھول جاتے ہیں ترے چاہنے والے تجھ کو

    اس قدر سخت یہ ہستی کا سفر ہوتا ہے

    اب نہ وہ جوش وفا ہے نہ وہ انداز طلب

    اب بھی لیکن ترے کوچے سے گزر ہوتا ہے

    دل میں ارمان تھے کیا عہد بہاراں کے لئے

    چاک گل دیکھ کے اب چاک جگر ہوتا ہے

    ہم تو ہنستے بھی ہیں جی جان سے جانے کے لئے

    تم جو روتے ہو تو آنسو بھی گہر ہوتا ہے

    سینکڑوں زخم اسے ملتے ہیں اس دنیا سے

    کوئی دل تیرا طلب گار اگر ہوتا ہے

    قافلہ لٹتا ہے جس وقت سر راہ گزر

    اس گھڑی قافلہ سالار کدھر ہوتا ہے

    انجمؔ سوختہ جاں کو ہے خوشی کی امید

    رات میں جیسے کبھی رنگ سحر ہوتا ہے

    مآخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY