مل کر صنم سے اپنے ہنگام دل کشائی

نظیر اکبرآبادی

مل کر صنم سے اپنے ہنگام دل کشائی

نظیر اکبرآبادی

MORE BYنظیر اکبرآبادی

    مل کر صنم سے اپنے ہنگام دل کشائی

    ہنس کر کہا یہ ہم نے اے جاں بسنت آئی

    سنتے ہی اس پری نے گل گل شگفتہ ہو کر

    پوشاک زر فشانی اپنی وہیں رنگائی

    جب رنگ کے آئی اس کے پوشاک پر نزاکت

    سرسوں کی شاخ پر کل پھر جلد اک منگائی

    اک پنکھڑی اٹھا کر نازک سے انگلیوں میں

    رنگت کو اس کی اپنی پوشاک سے ملائی

    جس دم کیا مقابل کسوت سے اپنی اس کو

    دیکھا تو اس کی رنگت اس پر ہوئی سوائی

    پھر تو بصد مسرت اور سو نزاکتوں سے

    نازک بدن پہ اپنے پوشاک وہ کھپائی

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY