ملے ہیں درد ہی مجھ کو محبتوں کے عوض

شارب مورانوی

ملے ہیں درد ہی مجھ کو محبتوں کے عوض

شارب مورانوی

MORE BYشارب مورانوی

    ملے ہیں درد ہی مجھ کو محبتوں کے عوض

    صلے میں ہاتھ کٹے ہیں مشقتوں کے عوض

    خموش رہ کے بھی میں گفتگو کروں ان سے

    نگاہ وہ مری پڑھ لیں سماعتوں کے عوض

    گھروں میں شمع کی صورت وہ روشنی کر کے

    پگھل رہا ہے ہر اک پل تمازتوں کے عوض

    نہ پوچھو باپ سے اپنے کبھی شب ہجرت

    ملے گا کیا تمہیں ان کی وصیتوں کے عوض

    پلٹ کے ہم نے بھی اک بار پھر نہیں دیکھا

    فلک جو بیچ دیئے ہم نے کل چھتوں کے عوض

    میں جی بھی جاؤں تو تنہائی مجھ کو ڈس لے گی

    چہار سمت مقاتل ہیں قربتوں کے عوض

    اے کاش میرا بھی ہمدرد ہو کوئی شاربؔ

    مجھے رہائی دلائے ضمانتوں کے عوض

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY