ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بس

سلیم کوثر

ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بس

سلیم کوثر

MORE BYسلیم کوثر

    ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بس

    تم سچ ہو باقی جو ہے فسانہ ہے اور بس

    لوگوں کو راستے کی ضرورت ہے اور مجھے

    اک سنگ رہ گزر کو ہٹانا ہے اور بس

    مصروفیت زیادہ نہیں ہے مری یہاں

    مٹی سے اک چراغ بنانا ہے اور بس

    سوئے ہوئے تو جاگ ہی جائیں گے ایک دن

    جو جاگتے ہیں ان کو جگانا ہے اور بس

    تم وہ نہیں ہو جن سے وفا کی امید ہے

    تم سے مری مراد زمانہ ہے اور بس

    پھولوں کو ڈھونڈتا ہوا پھرتا ہوں باغ میں

    باد صبا کو کام دلانا ہے اور بس

    آب و ہوا تو یوں بھی مرا مسئلہ نہیں

    مجھ کو تو اک درخت لگانا ہے اور بس

    نیندوں کا رت جگوں سے الجھنا یوں ہی نہیں

    اک خواب رائیگاں کو بچانا ہے اور بس

    اک وعدہ جو کیا ہی نہیں ہے ابھی سلیمؔ

    مجھ کو وہی تو وعدہ نبھانا ہے اور بس

    مآخذ
    • کتاب : duniya aarzoo se kam hai (Pg. 57)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY