ملنا تھا اتفاق بچھڑنا نصیب تھا

انجم رہبر

ملنا تھا اتفاق بچھڑنا نصیب تھا

انجم رہبر

MORE BY انجم رہبر

    ملنا تھا اتفاق بچھڑنا نصیب تھا

    وہ اتنی دور ہو گیا جتنا قریب تھا

    میں اس کو دیکھنے کو ترستی ہی رہ گئی

    جس شخص کی ہتھیلی پہ میرا نصیب تھا

    بستی کے سارے لوگ ہی آتش پرست تھے

    گھر جل رہا تھا اور سمندر قریب تھا

    مریم کہاں تلاش کرے اپنے خون کو

    ہر شخص کے گلے میں نشان صلیب تھا

    دفنا دیا گیا مجھے چاندی کی قبر میں

    میں جس کو چاہتی تھی وہ لڑکا غریب تھا

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY