طاقت نہیں ہے دل میں نے جی بجا رہا ہے

میر تقی میر

طاقت نہیں ہے دل میں نے جی بجا رہا ہے

میر تقی میر

MORE BY میر تقی میر

    طاقت نہیں ہے دل میں نے جی بجا رہا ہے

    کیا ناز کر رہے ہو اب ہم میں کیا رہا ہے

    جیب اور آستیں سے رونے کا کام گزرا

    سارا نچوڑ اب تو دامن پر آ رہا ہے

    اب چیت گر نہیں کچھ تازہ ہوا ہوں بیکل

    آیا ہوں جب بہ خود میں جی اس میں جا رہا ہے

    کاہے کا پاس اب تو رسوائی دور پہنچی

    راز محبت اپنا کس سے چھپا رہا ہے

    گرد رہ اس کی یا رب کس اور سے اٹھے گی

    سو سو غزال ہر سو آنکھیں لگا رہا ہے

    بندے تو طرحدار وہیں طرح کش تمہارے

    پھر چاہتے ہو کیا تم اب اک خدا رہا ہے

    دیکھ اس دہن کو ہر دم اے آرسی کہ یوں ہی

    خوبی کا در کسو کے منہ پر بھی وا رہا ہے

    وے لطف کی نگاہیں پہلے فریب ہیں سب

    کس سے وہ بے مروت پھر آشنا رہا ہے

    اتنا خزاں کرے ہے کب زرد رنگ پر یاں

    تو بھی کسو نگہ سے اے گل جدا رہا ہے

    رہتے ہیں داغ اکثر نان و نمک کی خاطر

    جینے کا اس سمیں میں اب کیا مزہ رہا ہے

    اب چاہتا نہیں ہے بوسہ جو تیرے لب سے

    جینے سے میرؔ شاید کچھ دل اٹھا رہا ہے

    مآخذ:

    • Book: MIRIYAAT - Diwan No- 1, Ghazal No- 0555
    • Book: मीरियात - दीवान नंo- 1, ग़ज़ल नंo- 0555

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites