مرا خورشید رو سب ماہ رویاں بیچ یکا ہے

تاباں عبد الحی

مرا خورشید رو سب ماہ رویاں بیچ یکا ہے

تاباں عبد الحی

MORE BYتاباں عبد الحی

    مرا خورشید رو سب ماہ رویاں بیچ یکا ہے

    کہ ہر جلوے میں اس کے کیا کہوں اور ہی جھمکا ہے

    نہیں ہونے کا چنگا گر سلیمانی لگے مرہم

    ہمارے دل پہ کاری زخم اس ناوک پلک کا ہے

    کئی باری بنا ہو جس کی پھر کہتے ہیں ٹوٹے گا

    یہ حرمت جس کی ہو اے شیخ کیا تیرا وہ مکا ہے

    ہر اک دل کے تئیں لے کر وہ چنچل بھاگ جاتا ہے

    ستم گر ہے جفا جو ہے شرابی ہے اچکا ہے

    نہ جا واعظ کی باتوں پر ہمیشہ مے کو پی تاباںؔ

    عبث ڈرتا ہے تو دوزخ سے اک شرعی درکا ہے

    مأخذ :
    • Deewan-e-Taban Rekhta Website)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY