مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کا

امام بخش ناسخ

مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کا

امام بخش ناسخ

MORE BYامام بخش ناسخ

    مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کا

    طلوع صبح محشر چاک ہے میرے گریباں کا

    ازل سے دشمنی طاؤس و مار آپس میں رکھتے ہیں

    دل پر داغ کو کیوں کر ہے عشق اس زلف پیچاں کا

    کسی خورشید رو کو جذب دل نے آج کھینچا ہے

    کہ نور صبح صادق ہے غبار اپنے بیاباں کا

    چمکنا برق کا لازم پڑا ہے ابر باراں میں

    تصور چاہیئے رونے میں اس کے روئے خنداں کا

    دیا میرے جنازے کو جو کاندھا اس پری رو نے

    گماں ہے تختۂ تابوت پر تخت سلیماں کا

    کسی سے دل نہ اس وحشت سرا میں میں نے اٹکایا

    نہ الجھا خار سے دامن کبھی میرے بیاباں کا

    تہہ شمشیر قاتل کس قدر بشاش تھا ناسخؔ

    کہ عالم ہر دہان زخم پر ہے روئے خنداں کا

    مآخذ :
    • کتاب : Intekhab-e-Zarrin Urdu Ghazal (Pg. 98)
    • Author : Khvaja Mohammad Zakriya
    • مطبع : Sangat Publishers (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY