مرا ضمیر بہت ہے مجھے سزا کے لیے

شاذ تمکنت

مرا ضمیر بہت ہے مجھے سزا کے لیے

شاذ تمکنت

MORE BYشاذ تمکنت

    مرا ضمیر بہت ہے مجھے سزا کے لیے

    تو دوست ہے تو نصیحت نہ کر خدا کے لیے

    وہ کشتیاں مری پتوار جن کے ٹوٹ گئے

    وہ بادباں جو ترستے رہے ہوا کے لیے

    بس ایک ہوک سی دل سے اٹھے گھٹا کی طرح

    کہ حرف و صوت ضروری نہیں دعا کے لیے

    جہاں میں رہ کے جہاں سے برابری کی یہ چوٹ

    اک امتحان مسلسل مری انا کے لیے

    نمیدہ خو ہے یہ مٹی ہر ایک موسم میں

    زمین دل ہے ترستی نہیں گھٹا کے لیے

    میں تیرا دوست ہوں تو مجھ سے اس طرح تو نہ مل

    برت یہ رسم کسی صورت آشنا کے لیے

    ملوں گا خاک میں اک روز بیج کے مانند

    فنا پکار رہی ہے مجھے بقا کے لیے

    مہ و ستارہ و خورشید و چرخ ہفت اقلیم

    یہ اہتمام مرے دست نارسا کے لیے

    جفا جفا ہی اگر ہے تو رنج کیا ہو شاذؔ

    وفا کی پشت پناہی بھی ہو جفا کے لیے

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat-e- Shaz Tamkanat (Pg. 434)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY