مرے ارمان مایوسی کے پالے پڑتے جاتے ہیں

مضطر خیرآبادی

مرے ارمان مایوسی کے پالے پڑتے جاتے ہیں

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    مرے ارمان مایوسی کے پالے پڑتے جاتے ہیں

    تمہاری چاہ میں جینے کے لالے پڑتے جاتے ہیں

    ادھر اس کی شرارت جس نے غم کی آگ سلگا دی

    ادھر میرا کلیجہ جس میں چھالے پڑتے جاتے ہیں

    مرے ان کے تعلق پر کوئی اب کچھ نہیں کہتا

    خدا کا شکر سب کے منہ میں تالے پڑتے جاتے ہیں

    غم ناکامیٔ کوشش سے حالت بگڑی جاتی ہے

    کلیجے میں یہاں بے آگ چھالے پڑتے جاتے ہیں

    ہمارا درد آہ دل مزا دیتا ہے اڑ اڑ کر

    تمہارے چاند سے چہرے پہ ہالے پڑتے جاتے ہیں

    مسیحا جا رہا ہے دوڑ کر آواز دو مضطرؔ

    کہ دل کو دیکھتا جا جس میں چھالے پڑتے جاتے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Khirman (Part-1) (Pg. 371)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY