مرے اطراف یہ کیسی صدائیں رقص کرتی ہیں

شمیم روش

مرے اطراف یہ کیسی صدائیں رقص کرتی ہیں

شمیم روش

MORE BYشمیم روش

    مرے اطراف یہ کیسی صدائیں رقص کرتی ہیں

    کہ یوں لگتا ہے مجھ میں اپسرائیں رقص کرتی ہیں

    اسی امید پر شاید کبھی خوشبو کوئی اترے

    مری یادوں کے آنگن میں ہوائیں رقص کرتی ہیں

    میسر ہی نہیں آتی مجھے اک پل بھی تنہائی

    کہ مجھ میں خواہشوں کی خادمائیں رقص کرتی ہیں

    مجھے ہر شام اک سنسان جنگل کھینچ لیتا ہے

    اور اس کے بعد پھر خونی بلائیں رقص کرتی ہیں

    کبھی دیکھا ہے تم نے شام کا منظر جب آنکھوں میں

    ستارے ٹوٹتے ہیں اور گھٹائیں رقص کرتی ہیں

    کسی کی چاہ میں کوئی روشؔ جب جان دیتا ہے

    زمیں سے آسماں تک آتمائیں رقص کرتی ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY